امریکہ اور ایران دونوں کو نہ دنیا بھر کے دوسرے ممالک پر فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے اور نہ ہی مداخلت کرنے کا حق حاصل ہے۔ شیعہ مولانا حسن علی راجانی

ایران کی سات شرائط اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہیں، جبکہ امریکہ کے مطالبات میں عالمی امن، سمندری سلامتی اور دوسرے ممالک کی خودمختاری کا پہلو ہی شامل ہے — شیعہ عالمِ دین مولانا حسن علی راجان

نئی دہلی، 7 نومبر: شیعہ مولانا حسن علی راجانی نے ایران کی جانب سے امریکہ کے سامنے پیش کی جانے والی سات شرائط پر اپنا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پیش کردہ مطالبات بنیادی طور پر ایرانی حکومت کے سیاسی، اقتصادی اور فوجی مفادات کے تحفظ پر مبنی ہیں، جبکہ امریکہ کی جانب سے ایران کے سامنے رکھے جانے والے مطالبات میں عالمی امن، بین الاقوامی تجارت، سمندری راستوں کی آزادی اور مختلف ممالک کی قومی خودمختاری جیسے اہم معاملات ہی شامل ہیں۔
مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ اگر ایران امریکہ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ہو اور تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں بند کی جائیں تو امریکہ کا یہ مطالبہ بھی اہم ہے کہ ایران دنیا کے مختلف ممالک میں سرگرم اپنے مسلح گروہوں اور جنگجوؤں کی حمایت اور ان کی سرگرمیاں ختم کرے۔ عراق، شام، لبنان، یمن اور دیگر ممالک کو اپنے سیاسی اور قومی فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ ایران کو کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایران اگر اپنے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ ایران سے وابستہ مالی نیٹ ورکس اور مختلف ممالک میں مسلح سرگرمیوں کے لیے مبینہ طور پر استعمال ہونے والے فنڈز کا بھی شفاف حساب ہونا چاہیے۔جو دنیا بھر میں شیعہ مسلمانوں کے عطیات اور مذہبی و فلاحی اداروں کے مالی وسائل کو کسی بھی حکومت یا مسلح تنظیم کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں ایسے الزامات موجود ہیں، وہاں آزادانہ تحقیقات اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے حقیقت سامنے آنی چاہیے۔مولانا راجانی نے کہا کہ ایران امریکی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور اپنے تیل کی برآمدات بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ ضمانت بھی ضروری ہے کہ عوامی فلاح کے لیے دستیاب وسائل عام شہریوں کی بنیادی ضروریات پر خرچ ہوں۔ راشن، صاف پانی، ادویات، تعلیم، صحت اور روزگار کو ترجیح دی جائے، نہ کہ ان وسائل کو اسلحہ سازی، پراکسی سرگرمیوں اور بیرونِ ملک مسلح نیٹ ورکس کی مالی معاونت پر خرچ کیا جائے۔ نے کہا کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے مطالبہ کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایران کو بھی یہ ضمانت دینی چاہیے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی تجارتی جہاز کو غیر قانونی طور پر روکا، قبضے میں لیا یا دھمکایا نہیں جائے گا۔ عالمی سمندری راستے کسی ایک ملک کے سیاسی دباؤ کا ذریعہ نہیں بننے چاہئیں۔ امریکہ اور ایران دونوں کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی تجارت کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔مولانا حسن علی راجانی نے کہا کہ اگر ایران امریکی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے لیے جنگی ہرجانے کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے بھی عراق، شام، لبنان، یمن اور دیگر متاثرہ ممالک میں جنگوں اور مسلح سرگرمیوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں شفاف تحقیقات اور جواب دہی کے اصول کو قبول کرنا چاہیے۔ جہاں ایران یا اس سے وابستہ عناصر کی ذمہ داری ثابت ہو، وہاں متاثرین کے حقوق اور نقصانات کی تلافی کا معاملہ بھی اٹھایا جانا چاہیے۔مولانا راجانی نے کہا کہ ایران امریکہ سے مشرقِ وسطیٰ سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایران کو بھی دوسرے ممالک کی سرزمین پر اپنی فوجی، سیاسی اور مسلح مداخلت سے دستبردار ہونا چاہیے۔ عراق، شام، لبنان اور یمن کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ نہ واشنگٹن کو ان پر اپنے فیصلے مسلط کرنے چاہئیں اور نہ تہران کو۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اگر یہ چاہتا ہے کہ امریکہ اس کے داخلی سیاسی معاملات میں مداخلت اور دھمکیوں کا سلسلہ بند کرے تو ایران کو بھی دنیا بھر کے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ ایرانی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جس طرح ایرانی عوام سیاسی، معاشی اور شہری حقوق رکھتے ہیں، اسی طرح عراق، شام، لبنان، یمن، خلیجی ممالک اور دنیا کے دیگر خطوں کے عوام بھی اپنے حقوق اور آزادی کے حقدار ہیں۔مولانا حسن علی راجانی نے واضح کیا کہ دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں کو کسی بھی حکومت کی سیاسی پالیسیوں کا لازمی حامی سمجھنا درست نہیں۔ شیعہ شناخت کا مطلب ایرانی حکومت کی ہر پالیسی کی حمایت نہیں ہے۔ شیعہ عوام بھی امن، ترقی، تعلیم، روزگار، مذہبی آزادی اور قومی خودمختاری چاہتے ہیں۔ ایران کو دنیا بھر کے مسلمانوں کو خوف اور دباؤ میں رکھنے کے بجائے ان کے آزادانہ فیصلوں اور حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔اپنے بیان کے اختتام پر مولانا راجانی نے کہا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکہ اس کے مطالبات پورے نہیں کرتا، وہ آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی آمدورفت کے لیے کھولنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ تاہم عالمی تجارت اور مختلف ممالک کے شہریوں کی معیشت کو دو ملکوں کے تنازعے کی قیمت نہیں بننا چاہیے۔ مولانا رجانی نے کہا کہ امریکہ اور ایران دونوں کو ایسے مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے جن میں آبنائے ہرمز کی آزادانہ آمدورفت، عالمی سمندری سلامتی، جنگ بندی اور علاقائی خودمختاری کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔مولانا حسن علی راجانی نے آخر میں کہا کہ عالمی امن اسی وقت ممکن ہے جب امریکہ، ایران اور دنیا کی تمام بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت بند کریں، مسلح پراکسی سرگرمیوں کا خاتمہ کریں اور عام انسانوں کے حقوق کو اپنے سیاسی و فوجی مفادات پر ترجیح دیں۔ مشرقِ وسطیٰ کو مزید جنگوں، اسلحے اور خوف کی نہیں بلکہ امن، انصاف، خودمختاری اور تعمیرِ نو کی ضرورت ہے۔
Contact Email
[email protected]
Issued By
Maulana Hasan Ali Rajani
Phone
+91-8347799275
Business Address
Maulana Hasan Ali Rajani Mahuva Bhavnagar Gujarat India
Maulana Hasan Ali Rajani Noida Sector 116 UP India
Country
India
Categories
Media · News · Politics
Last Updated
November 7, 2026
Report Abuse · Content Requests